نئی دہلی، 4؍ اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی ) ضمانت پر باہر آئے متنازع سادھو یتی نرسنگھا نند نے آج پھر ایک مہاپنچایت میں ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو کہا۔ اس شخص نے ہری دوار میں ایسی ہی دھرم سنسد منعقد کیا تھا ۔ جس میں انہوں نے مسلمانوں کی نسل کشی کی اپیل کی تھی۔ جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ پھر وہ ضمانت پر باہر آگیا۔ ضمانت پر باہر آنے کے بعد اس نے پھر نفرت انگیز تقریر کی۔
ان کے حامیوں نے اتوار کو اس مہا پنچایت میں صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی کی ۔یہ متنازع سادھو اپنے خود کو غازی آباد کے ڈاسنا دیوی مندر کا پجاری بتاتا ہے۔ انہوں نے اتوار کو کہا کہ اگر ہندوؤں نے ہتھیار نہیں اٹھایا توہندوستان میں مسلم وزیر اعظم آ جائے گا۔ آپ میں سے 50 فیصد ہندؤ اگلے 20 سال میں اپنا دھرم بدل لیں گے ۔یتی نے دہلی کے برابڑی میدان میں اتوار کو یہ نفرت انگیز بیان دیا۔ اس ہندو مہا پنچایت میں تقریباً 200 لوگ جمع ہوئے تھے ۔
اتوار کی دیر رات، دہلی پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اشتعال انگیز تقاریر پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ مکھرجی نگر پولس اسٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے، ’’کچھ مقررین بشمول یتی نرسگھنند سرسوتی… اور سدرشن نیوز کے چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے نے دو برادریوں کے درمیان انتشار، دشمنی، نفرت انگیز جذبات کو فروغ دینے والے بیانات دئیے ہیں ۔
جبکہ دہلی پولیس نے کہا کہ مہاپنچایت کے منتظمین کے پاس اس تقریب کے انعقاد کی اجازت نہیں تھی، لیکن میٹنگ سے پہلے کسی کو روکا یا حراست میں نہیں لیا گیا۔
ہم تمام فوٹیج کو اسکین کر رہے ہیں، تقریب کے دوران دہلی پولیس نے کچھ ویڈیوز بھی ریکارڈ کی ہیں۔ ایک سینئر پولیس اہلکار نے کہا کہ قانونی رائے لینے کے بعد مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مہاپنچایت میں، نرسنگھ نند نے بھیڑ سے یہ بھی کہا کہ ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے ہوں گے، اور انہیں لڑنا سکھانا ہوگا۔
پروگرام کا اہتمام سیو انڈیا فاؤنڈیشن کے بانی پریت سنگھ نے کیا ۔ یہ پریت سنگھ وہی ہیں جس نے گزشتہ سال جنتر منتر پر ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں مسلم مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔ اسے دہلی پولیس نے اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا اور فی الحال وہ ضمانت پر باہر ہیں۔
نرسنگھانند بھی ہریدوار کیس میں ضمانت پر باہر ہے۔ بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے نرسنگھانند نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان میں کوئی مسلمان وزیر اعظم بنا تو 40 فیصد ہندو مارے جائیں گے۔ یہ ہندوؤں کا مستقبل ہے۔ اگر آپ اسے بدلنا چاہتے ہیں تو مرد بنیں۔ کوئی ہے جو مسلح ہو۔ دہلی پولیس نے کہا کہ منتظمین کو تقریب منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ پریت سنگھ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے مطابق، اس تقریب کی منصوبہ بندی اس سال 4 جنوری سے کی گئی تھی۔
دریں اثنا، کچھ صحافیوں نے، جو اس تقریب کی کوریج کے لیے گئے تھے، الزام لگایا کہ نرسنگھانند کے حامیوں نے انہیں مارا پیٹا۔ ان میں سے کچھ نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں دہلی پولیس نے پنڈال سے حراست میں لیا اور مکھرجی نگر پولیس اسٹیشن لے گئے۔ تاہم دہلی پولیس نے اس الزام سے انکار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ صحافی رضاکارانہ طور پر بھیڑ سے بچنے کے لیے پنڈال میں تعینات پی سی آر وین میں سوار ہوئے اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پولیس اسٹیشن جانے کا انتخاب کیا۔ کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا۔ مناسب پولیس تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔